اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر اور سیاسی نفسیات کے تجزیہ کار جان گارٹنر نے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی چار دہائیوں پر محیط طبی زندگی میں ایسا مریض نہیں دیکھا جس کی حالت ان کے بقول ٹرمپ جتنی خراب ہو۔
گارٹنر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مزید تشویشناک بنانے والی بات ٹرمپ میں خود کو ایک فوجی فاتح کے طور پر پیش کرنے کا رجحان ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ خود کو نپولین، سکندر اعظم اور جولیس سیزر سے تشبیہ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تاریخی شخصیات میں ایک مشترک بات یہ تھی کہ وہ فوجی فتوحات اور وسیع علاقوں کی تسخیر کے لیے مشہور تھے۔ گارٹنر کے بقول ٹرمپ بھی جنگ کے لیے ذہنی فضا ہموار کر رہے ہیں اور عوام کو ممکنہ جوہری جنگ کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی ماہرِ نفسیات نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ خود کو تاریخ کا سب سے طاقتور اور تباہ کن فوجی رہنما ثابت کرنا چاہتے ہیں اور طاقت کے اظہار سے انہیں غیر معمولی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے ٹرمپ پر لوگوں کو نقصان پہنچانے اور تباہی سے لطف اندوز ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔
آپ کا تبصرہ